اہل سنت والجماعت کے معتبر علماء کرام سے شرعی مسائل دریافت کیجیے

آپـ کے مسائل

شرعی رہنمائی، آسان زبان میں
نوٹیفیکیشنز
لوڈ ہو رہا ہے...

آپـ کے مسائل

آپـ کے مسائل

شرعی رہنمائی، آسان زبان میں
نوٹیفیکیشنز
لوڈ ہو رہا ہے...
دیگر مسائل

نامحرم سے سلام کرنا کیسا ہے؟

السلام علیکم و رحمت اللہ، 
 کیا فرماتے ہیں علماء مسلک اعلی حضرت اس مسئلہ میں:
نہ محرم خواتین کو سلام کرنا کیسا (مطلقا) ؟ 
اگر کوئی نہ محرم سامنے سے سلام کرے تو کیا انہیں جواب دیا جائے؟ 
بعض گھروں میں والدین چاچا کی بیوی اور مامو کی بیوی کو سلام کرنے کو کہتے ہیں،
تو کیا اس مسئلہ میں والدین کی نافرمانی کی جائے؟ 
رہنمائی فرمائیں۔ بَيِّنُوا تُؤْجَرُوا تُغْفَرُوا
سائل : عمر رضوی، حیدرآباد دکن 

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ 
 الجواب بعون الملک الوھاب : نامحرم جوان عورت کو سلام کرنا مرد کے لیے مکروہ و ممنوع ہے، البتہ عمر رسیدہ عورت کو سلام کرنے میں حرج نہیں۔ اسی طرح سلام کے جواب کا حکم بھی عمر کے اعتبار سے مختلف ہے؛ چنانچہ اگر سلام کرنے والا مرد عمر رسیدہ ہو تو عورت زبان سے جواب دے سکتی ہے، لیکن اگر وہ جوان ہو تو آہستہ یا دل میں جواب دے۔ اسی طرح اگر کسی نامحرم عورت نے مرد کو سلام کیا ہو تو عورت کے عمر رسیدہ ہونے کی صورت میں مرد زبان سے جواب دے سکتا ہے، اور اگر وہ جوان ہو تو دل میں جواب دے۔
چچی اور ممانی دونوں غیر محرم ہیں ان سے بھی پردہ ہے ان کا بھی وہی حکم ہے جو اوپر مذکور ہوا۔

  رد المحتار علی الدر المختار میں ہے”وإذا سلمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزا رد الرجل - عليها السلام - بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابة رد عليها في نفسه، وكذا الرجل إذا سلم على امرأة أجنبية فالجواب فيه على العكس “اور جب اجنبیہ عورت نے مرد کو سلام کیا تو اگر وہ بوڑھی ہو تو اس کے سلام کا جواب اتنی آواز سے دے جس کو وہ سن لے اور اگر جوان ہو تو دل میں جواب دے ،اسی طرح جب مردکسی نامحرم عورت کو سلام کرے  تو اس معاملہ میں جواب برعکس ہے ۔(رد المحتار 6 ص369 دار الفکر بیروت)

جیسا کہ سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں کہ : محارم وازواج پر سلام مطلقًا ہے اور اجنبیات میں جوانوں کو سلام نہ کیا جائے بوڑھیوں کو کیا جائے بلکہ جوانیں اگر سلام نہ کریں تو جواب دل میں دیا جائے انھیں نہ سنائے حالانکہ جواب دینا واجب ہے اور لفظ سلام کا مرد وعورت کا باہم اور ایک دوسرے کے ساتھ مطلقًا السلام علیکم ہے اور سلام بھی کافی۔
 (فتاویٰ رضویہ شریف جلد 22 ص 563)

نیز فرماتے ہیں : چچی اور ممانی سے بھی نکاح جائز ہے 
 (فتاویٰ رضویہ شریف جلد 11 ص 466)

 کـــــــــــتبہ: سـرفراز احمد قادری امجدی
22 ذی الحجہ 1447ھ 9 جون 2026ء
 بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار
14 ویوز
آپـ کے مسائل © 2026 — تمام حقوق محفوظ ہیں