سوال عرض ہے کہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک عالم دین اور منصب امامت پر فائز ہے ، امام صاحب یعنی زید بدمذهب دیوبندی کے ساتھ اپنی قربانی کرتے ہیں اور وہابیوں دیوبندیوں مذھبوں کا ذبیحہ بھی کھاتے ہیں ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں سلام کرتے ہیں جس کی وجہ سے زید کو امام تسلیم نہیں کرتا ہے بشرط کہ توبہ کر لیں
بکر کے محلے کے چند جاہل لوگ جان بوجھ کر زید ہی کو امام منتخب کیا ہے ۔
زید کو امام بنانا ان کی اقتدا میں نماز ادا کرنا کیسا ہے ؟
جو لوگ جان بوجھ کر زید کو امام منتخب کر رہے ہیں ان کیلے حکم شرع کیاہے ؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل: محمد شمشیر رضا شمس
بائسی پورنیہ بہار 7739640739
الجواب بعون الملک الوھاب
وہابی دیوبندی اپنے عقائد کفریہ کی بنا پر اسلام سے خارج اور کافر و مرتد ہیں ان کے ساتھ قربانی کرنا ان کا ذبیحہ کھانا ان کے ساتھ میل جول سلام کلام کرنا سب ناجائز و حرام ہے بکر کی بات بالکل درست ہے زید کئی وجہ سے فاسق معلن ہے زید کو امامت سے معزول کر دیا جائے اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے جو لوگ زید کو جان بوجھ کر امامت پر فائز کیا ہے سب کے سب گنہگار ہوں گے زید کے پیچھے کسی کی نماز نہ ہوگی جب تک اس قبیح فعل سے زید توبہ و استغفار نہ کر لے۔
فتاویٰ مرکز تربیت افتا میں ہے
دیوبندی مذہب کے مولوی اشرف علی تھانوی، قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی اور خلیل احمد انبیٹھوی کو ان کے کفریات قطعیہ کی بنا پر مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، ہند و پاک، بنگلہ دیش اور برما کے سینکڑوں علمائے کرام و مفتیان عظام نے کافر و مرتد قرار دیا ہے
جس کی تفصیل فتاویٰ حسام الحرمین اور الصوارم الھندیہ میں ہے
اور سارے دیوبندی ان کو اپنا پیشوا اور مسلمان مانتے ہیں اور ان کے حامی ہیں تو وہ بھی مرتد کے حکم میں ہیں۔ لہذا بڑے جانور کی قربانی میں وہابی، دیوبندی تبلیغی، رافضی وغیرہ ان میں کا کوئی بھی شریک ہوگا تو ہرگز کسی کی قربانی نہ ہوگی اور واجب ان کے ذمے سے ساقط نہ ہوگا۔ اس لیے ہرشخص پر لازم ہے کہ پوری تحقیق سے معلوم کرے کہ کوئی بدمذہب حصے میں شریک تو نہیں
فتاویٰ مرکزی تربیت افتا ص۳۲۸/۳۲۹
خلیفہ حضور اعلیٰ حضرت فقیہ اعظم ہند حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ*
گائے کے شرکا میں سے ایک کافر ہے یا ان میں ایک شخص کا مقصود قربانی نہیں ہے بلکہ گوشت حاصل کرنا ہے تو کسی کی قربانی نہ ہوئی بلکہ اگر شرکا میں سے کوئی غلام یا مدبر ہے جب بھی قربانی نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ لوگ اگر قربانی کی نیت بھی کریں تو نیت صحیح نہیں
بہار شریعت حصہ پانزدہم قربانی کے جانور میں شرکت کا بیان مسئلہ نمبر ۱۴
حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ
اگر یہ صحیح ہے کہ زید ایسے دیوبندی کے ہاتھ کا ذبیحہ کھاتا ہے جو گنگوہی نانوتوی انبیٹھی تھانوی کی ان کفری عبارتوں پر مطلع ہے جن پر علماے عرب وعجم ، حل وحرم نے ان چاروں کے بارے میں یہ فتوی دیا کہ جو شخص ان کی ان کفری عبارتوں پر مطلع ہوتے ہوئے ان کو کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہے تو ضرور زید فاسق معلن ہوا، اسے امام بنانا جائز نہیں اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے
فتاویٰ جامعہ اشرفیہ جلد پنجم ص ۷۰۲
حضور شارح بخاری آگے تحریر فرماتے ہیں کہ دیوبندیوں مودودیوں سے میل جول سلام کلام نشست و برخاست ان کے ساتھ کھانا پینا حرام وگناہ ہے
حدیث میں بدمذہبوں کےبارے میں وارد ہے
إیاکم وإیاہم لا یضلونکم ولا یفتنونکم
بدمذہبوں کو اپنے سے دور رکھو ان سے خود دور رہو کہیں تم کو گمراہ نہ کر دیں کہیں تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں
دوسری حدیث میں ہے
فلا تجالسوہم ولا تشاربوہم ولا تواکلوہم ولا تناکحوہم ولاتصلوا علیہم ولا تصلومعہم
ان کے ساتھ نہ اٹھو، نہ بیٹھو نہ کھاؤ نہ پیو نہ شادی کرو نہ ان کی نماز جنازہ پڑھو نہ ان کے ساتھ (یعنی ان کے پیچھے) نماز پڑھو
بلا شبہہ یہ امام جو دیوبندیوں مودودیوں کے ساتھ میل جول رکھتا ہے ان کے یہاں اٹھتا بیٹھتا ہے ان کے ساتھ کھاتا پیتا ہے ان سے سلام وکلام رکھتا ہے فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے
در مختار میں ہے: کل صلاۃ ادیت مع کراہۃ التحریم تجب إعادتہا
فتاویٰ جامعہ اشرفیہ جلد پنجم ص٦٦٧