سوال
السلامُ علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ ایک بندہ جو ایک عالم دین کو کہتا ہے کہ آپ لوگ خدا ہو ایک فوک ماروگے تو سب زندگی برباد ہو جائےگی۔ بلکہ ایک عالم دین کو نہیں کہا دوبارہ جب یہ لفظ کہا تو سب عالم دین کو شامل کر دِیا۔کہنے والے کا نام ہے ہارون انصاری عرف بابو کنتور شریف ضلع بارہ بنکی۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔
المستفتی: عطاء اشرف انصاری، ضلع بارہ بنکی
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الـــــجـــــــواب بـــتوفــیق اللّٰه التـــواب
لفظ خدا کا مطلقاً مخلوق پر اطلاق کفر ہے۔ حضور شارح بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ پیر کو خدا کہنے والے کے بارے میں فرماتے ہیں "زید اپنے اس قول کی وجہ سے کافر ومشرک ومرتد ہوگیا۔ اس کے سارے اعمال حسنہ اکارت ہوگئے اگر بیوی والا ہے تو اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی۔
(فتاویٰ شارح بخاری جلد اوّل ص247)۔
اور فرماتے ہیں "اپنے پیر یا کسی مخلوق کو خدا کہنا صریح کفر ہے۔(کہنے والے) اسلام سے خارج ہوگئے ان پر فرض ہے کہ توبہ کریں، تجدید ایمان کریں، اور بیوی والے ہوں تو تجدید نکاح بھی کریں۔(جلد اوّل ص254).
فلہذا علماء کو خدا کہنے والا شخص ہارون ہو یا کسے باشد اگر بطورِ تردید وانکار وہ لفظ نہیں بولا تو اس پر فرض ہے کہ فی الفور توبہ واستغفار کرکے تجدید ایمان کرے اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا سختی سے بالکلیہ بائیکاٹ کیا جائے۔
قال تعالیٰ "وَلَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ
ترجمہ:-اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آ گ چھوئے گی(سورۂ ھود آیت نمبر 113)۔
والــلــه تــعالي اعــلــم بالصـــوابــــــ
کـــــــتــــــــــــــــــــــبــــــــــــــــه
عبد المقتدر مــصــبــاحی عفی عنہ
خادم دارالعلوم اہلسنت فیض النبی کپتان گنج بستی یوپی
15/صفر المظفر 1448ھ
31/جولائی 2026م