سوال
:اگر محلہ کی مسجد میں امام موجود نہ ہو اور اس کے علاوہ کوئی دوسری مسجد بھی نہ ہو تو کیا فاسق کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟
الجواب بعون الملک الوھاب
: اگر محلہ کی مسجد میں امام موجود نہ ہو اور اس کے علاوہ کوئی دوسری مسجد بھی نہ ہوتو فاسق کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے، اگر نماز پڑھ لی تو نماز واجب الاعادہ ہوگی(نماز دوبارہ پڑھنا پڑھیں گی) فتاوی رضویہ میں ہے:
لما صرحوا بہ من کراھۃ الصلٰوۃ خلف الفاسق وان کل صلٰوۃ ادیت مع کراھۃ فانھا تعاد وجوبا لو تحریمۃ ندبالوتنزیھۃ وقداختارالمحقق الحلبی کراھۃ التحریم فی الفاسق وھو قضیۃ الدلیل لاسیما اذکان معلنا.
ترجمہ :
جیسا کہ فقہا نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے ، اور ہر وُہ نمازجو کراہت کے ساتھ ادا کی جائے تو مکروہ تحریمی کی صورت میں اس کالوٹانا واجب اور تنزیہی کی صورت میں لوٹانا مستحب ہے اور محقق حلبی نے اقتداءِ فاسق کے مکروہ تحریمی ہونے کو مختار قرار دیا ہے اوریہی دلیل کا تقاضا ہے خصوصًا جبکہ ہ فاسق معلن ہو
(فتاوی رضویہ :ج٦ ، ص٣٨)
حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمہ اللہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: محض کاہلی اور سستی سے نماز یا جماعت ترک کرنے والا مردود الشہادۃ ہے اور اگر ترک جماعت کے لیے عذر ہو مثلاً امام فاسق ہے کہ اُس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور امام کو ہٹا بھی نہیں سکتا یا امام گمراہ بد عتی ہے اس وجہ سے اُس کے پیچھے نہیں پڑھتا گھر میں تنہا پڑھ لیتا ہے تو اس کی گواہی مقبول ہے
( بہار شریعت: ج۲، ح۱۲،ص٩٥٤)