اہل سنت والجماعت کے معتبر علماء کرام سے شرعی مسائل دریافت کیجیے

آپـ کے مسائل

شرعی رہنمائی، آسان زبان میں
نوٹیفیکیشنز
لوڈ ہو رہا ہے...

آپـ کے مسائل

آپـ کے مسائل

شرعی رہنمائی، آسان زبان میں
نوٹیفیکیشنز
لوڈ ہو رہا ہے...
عبادات

کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم و وقت جماعت کرسی کہاں لگائے

سوال
 
کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا کیسا اور وقت جماعت کرسی کہاں لگائی جائے ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

جواب
 
   پوچھی گئی صورت میں جسے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا ، جائز ہے ، اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ صف جہاں تک مکمل ہوئی ہو ، وہیں کرسی رکھ کر نمازیوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھے ، ان سے فاصلے یا کونے پر کرسی نہ لگائے ، کیونکہ صف میں اس طرح مل کر نماز ادا کرنا کہ دو نمازیوں کے بیچ میں معمولی سا فاصلہ بھی نہ ہو ، واجب ہے ۔ لہٰذا کرسی اگر نمازیوں سے فاصلے پر رکھی ہوئی ہو ، تب بھی کرسی پر نماز پڑھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ اسے اٹھا کر نمازی کے برابر رکھ کر نماز ادا کرے ۔ نیز مناسب ہے کہ کرسیاں پہلے سے صفوں کے بیچ میں یا کونے پر نہ رکھی جائیں، بلکہ الگ سے صفوں کے پیچھے رکھی جائیں اور جب کوئی ایسا نمازی آئے ، جسے کرسی پر نماز ادا کرنا ، جائز ہو ، تو وہ وہاں سے کرسی اٹھا کر صف میں جہاں تک نمازی پہنچ چکے ہوں ، وہاں نمازی کے برابر کرسی رکھ کر جماعت میں شامل ہو جائے ۔

   صفیں درست کرنے اور صف میں مل کر نماز ادا کرنے کے متعلق حدیثِ پاک میں حکم دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : 
”اَلا تَصُفُّون کما تصف الملٰئکۃ عند ربھا فقلنا یا رسول اللہ و کیف تصف الملئکۃ عند ربھا قال یتمون الصفوف الاُوَل و یتراصون فی الصف “ 
ترجمہ : تم لوگ ایسی صفیں کیوں نہیں باندھتے ، جیسی صفیں فرشتے اپنے رب کی بارگاہ میں باندھتے ہیں ۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! فرشتے اپنے رب کی بارگاہ میں کیسی صف باندھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ پہلی صفیں مکمل کرتے ہیں اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔(الصحیح لمسلم ، ج1 ، ص181 ، مطبوعہ کراچی)

   دوسری حدیث میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
 ”اقیموا الصفوف و حاذوا بین المناکب و سدوا الخلل ولینوا بایدی اخوانکم ولاتذروا فرجات للشیطان و من وصل صفاً وصلہ اللہ و من قطع صفاً قطعہ اللہ ، ملخصا “ 
ترجمہ : صفیں سیدھی کرو ، اپنے کندھوں کے درمیان برابری رکھو ، (صف کی) خالی جگہیں بند کرو ، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجاؤ اور شیطان کے لیے خالی جگہ نہ چھوڑو اورجو صف کو ملائے ،اللہ اسے ملائے اور جو صف کو توڑے ،اللہ اسے توڑے ۔(سنن ابی داؤد ، ج1 ، ص107 ، مطبوعہ لاھور)

   سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ صف کے واجبات سے متعلق فرماتے ہیں : ”دربارۂ صُفوف شرعاً تین باتیں بتاکیدِ اَکید مامور بہ ہیں اورتینوں آج کل معاذ اللہ کَالْمَتْرُوْک ہو رہی ہیں ، یہی باعث ہے کہ مسلمانوں میں نااتفاقی پھیلی ہوئی ہے ۔ اول : تسویہ کہ صف برابر ہو ، خم نہ ہو ،کج نہ ہو ، مقتدی آگے پیچھے نہ ہوں ، سب کی گردنیں ، شانے ، ٹخنے آپس میں محاذی (یعنی برابر) ایک خطِ مستقیم (یعنی سیدھی لکیر) پر واقع ہوں ۔۔۔ دوم : اتمام کہ جب تک ایک صف پوری نہ ہو ، دوسری نہ کریں ۔۔۔ سوم : تراص یعنی خوب مل کر کھڑا ہونا کہ شانہ سے شانہ (یعنی کندھے سے کندھا) چِھلے ۔۔۔ اور تینوں امر شرعاً واجب ہیں ۔ ملخصا“(فتاویٰ رضویہ ، ج7 ، ص219تا 223 ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)


کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم 

جواب

جو شخص بیماری کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قادر نہ ہو، یا قیام و سجود کی صورت میں بیماری بڑھنے، شفا میں تاخیر ہونے یا ناقابلِ برداشت درد کا غالب گمان ہو، وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ البتہ معمولی یا موہوم تکلیف کی وجہ سے فرض نماز کا قیام ترک کرنا جائز نہیں۔

اگر کوئی شخص کچھ دیر کھڑا ہوسکتا ہو اور زمین پر سجدہ بھی کرسکتا ہو تو جتنی دیر کھڑا ہونا ممکن ہو، اتنی دیر قیام کرنا فرض ہے، خواہ کسی چیز کا سہارا لینا پڑے، پھر باقی نماز بیٹھ کر ادا کرے۔

اور جو شخص زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو، وہ شروع ہی سے زمین یا کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ اس کے لیے بیٹھنے کی کوئی خاص ہیئت ضروری نہیں، جس طرح سہولت ہو بیٹھ سکتا ہے، البتہ زمین پر بیٹھنا افضل ہے۔ اگر زمین پر بیٹھنے میں مشقت ہو تو کرسی پر بیٹھ کر فرض، وتر اور سنن ادا کرسکتا ہے۔

اشارے سے نماز پڑھنے والا معمول کے مطابق ہاتھ باندھے، رکوع میں کچھ اور سجدے میں اس سے زیادہ جھکے، اور تشہد معمول کے مطابق کرے۔ زمین پر دو زانو بیٹھنا مشکل ہو تو چار زانو یا پاؤں پھیلا کر جس طرح سہولت ہو بیٹھ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ جو شخص زمین پر سجدہ نہیں کرسکتا، اس پر قیام فرض نہیں، لہٰذا وہ چاہے قیام کرکے باقی نماز بیٹھ کر ادا کرے یا مکمل نماز بیٹھ کر پڑھے، دونوں جائز ہیں، تاہم مکمل نماز بیٹھ کر ادا کرنا افضل ہے۔

فقط واللہ اعلم
136 ویوز
آپـ کے مسائل © 2026 — تمام حقوق محفوظ ہیں