اہل سنت والجماعت کے معتبر علماء کرام سے شرعی مسائل دریافت کیجیے

آپـ کے مسائل

شرعی رہنمائی، آسان زبان میں
نوٹیفیکیشنز
لوڈ ہو رہا ہے...

آپـ کے مسائل

آپـ کے مسائل

شرعی رہنمائی، آسان زبان میں
نوٹیفیکیشنز
لوڈ ہو رہا ہے...
دیگر مسائل

شریعتِ اسلامیہ میں کافر کے جھوٹے کا کیا حکم ہے ؟

سوال
 
شریعتِ اسلامیہ میں کافر کے جھوٹے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

اگر کسی غیر مسلم کے ہاتھ، منہ یا برتن پر کوئی ظاہری نجاست، مثلاً شراب یا کوئی دوسری ناپاک چیز، لگی ہوئی نہ ہو تو اس کے استعمال شدہ کھانے یا پینے کی چیز سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، بشرطیکہ وہ چیز بذاتِ خود حلال اور پاک ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت میں غیر مسلم کا جسم اپنی ذات کے اعتبار سے ناپاک قرار نہیں دیا گیا، بلکہ اگر اس پر کوئی حقیقی نجاست موجود ہو تو اسی صورت میں وہ ناپاک شمار ہوگا۔
قرآنِ کریم میں مشرکین کے بارے میں جو ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ﴾ فرمایا گیا ہے، اس سے مراد ان کے شرک و کفر کی معنوی نجاست ہے، نہ کہ ان کے جسم کی ظاہری ناپاکی۔ اسی لیے اگر کسی غیر مسلم کے جسم یا کپڑوں پر نجاست نہ ہو تو اس کے ساتھ بیٹھنے یا اس سے میل جول رکھنے سے مسلمان ناپاک نہیں ہوتا، الا یہ کہ کوئی حقیقی نجاست مسلمان کے جسم یا لباس کو لگ جائے۔
تاہم، بلا ضرورت غیر مسلموں کے ساتھ کھانے پینے یا ان کا جھوٹا استعمال کرنے کی عادت بنانا مناسب نہیں، اس سے حتی الامکان اجتناب کرنا بہتر ہے۔
فقہی دلیل:
"فسؤر الآدمي مطلقاً ولو كافراً ... طاهر الفم ... طاهر."
(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطہارة، باب المياه، 1/381-382)
علامہ ابنِ عابدین شامیؒ فرماتے ہیں:
"قوله: أو كافراً؛ لأن النبي ﷺ أنزل بعض المشركين في المسجد... فالمراد بقوله تعالى: ﴿إنما المشركون نجس﴾ النجاسة في اعتقادهم."
(رد المحتار)
یعنی کافر کا جھوٹا بھی پاک ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے بعض مشرکین کو مسجد میں ٹھہرایا تھا، لہٰذا آیتِ کریمہ میں مذکور نجاست سے مراد ان کے باطل عقائد کی نجاست ہے، نہ کہ جسمانی ناپاکی۔
7 ویوز
آپـ کے مسائل © 2026 — تمام حقوق محفوظ ہیں