سوال
شریعتِ اسلامیہ میں کافر کے جھوٹے کا کیا حکم ہے ؟
جواب
قرآنِ کریم میں مشرکین کے بارے میں جو ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ﴾ فرمایا گیا ہے، اس سے مراد ان کے شرک و کفر کی معنوی نجاست ہے، نہ کہ ان کے جسم کی ظاہری ناپاکی۔ اسی لیے اگر کسی غیر مسلم کے جسم یا کپڑوں پر نجاست نہ ہو تو اس کے ساتھ بیٹھنے یا اس سے میل جول رکھنے سے مسلمان ناپاک نہیں ہوتا، الا یہ کہ کوئی حقیقی نجاست مسلمان کے جسم یا لباس کو لگ جائے۔
تاہم، بلا ضرورت غیر مسلموں کے ساتھ کھانے پینے یا ان کا جھوٹا استعمال کرنے کی عادت بنانا مناسب نہیں، اس سے حتی الامکان اجتناب کرنا بہتر ہے۔
فقہی دلیل:
"فسؤر الآدمي مطلقاً ولو كافراً ... طاهر الفم ... طاهر."
(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطہارة، باب المياه، 1/381-382)
علامہ ابنِ عابدین شامیؒ فرماتے ہیں:
"قوله: أو كافراً؛ لأن النبي ﷺ أنزل بعض المشركين في المسجد... فالمراد بقوله تعالى: ﴿إنما المشركون نجس﴾ النجاسة في اعتقادهم."
(رد المحتار)
یعنی کافر کا جھوٹا بھی پاک ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے بعض مشرکین کو مسجد میں ٹھہرایا تھا، لہٰذا آیتِ کریمہ میں مذکور نجاست سے مراد ان کے باطل عقائد کی نجاست ہے، نہ کہ جسمانی ناپاکی۔