سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عورتوں کا مزارات پر جانا کیسا ہے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جواب
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے روضہ مبارکہ کے علاوہ قبروں کی زیارت کے لیے جانا عورتوں کے لیے مطلقاً منع ہے ،اگرچہ باپردہ ہوکر جائیں،
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاویٰ رضویہ میں عورتوں کے قبرستان جانے کے متعلق فرماتے ہیں : ”اصح یہ ہے کہ عورتوں کو قبروں پر جانے کی اجازت نہیں ۔ “( فتاویٰ رضویہ ، جلد 9 ، صفحہ 537 ، )
مزید فرماتے ہیں : ”اقول : ( میں کہتا ہوں ) قبورِ اقرباء پر خصوصاً بحال قرب عہد ممات تجدید حزن لازم نساء ہے اور مزاراتِ اولیاء پر حاضری میں احد الشناعتین ( یعنی دو خرابیوں میں سے ایک ) کا اندیشہ یا ترکِ ادب یا ادب میں افراط ناجائز ، تو سبیل اطلاق منع ہے ولہٰذا غنیہ میں کراہت پر جزم فرمایا، البتہ حاضری و خاکبوسی آستان عرش نشان سرکارِ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم اعظم المندوبات ، بلکہ قریبِ واجبات ہے ، اس سے نہ روکیں گے اور تعدیلِ ادب سکھائیں گے ۔ “( فتاویٰ رضویہ ، جلد 9 ، صفحہ 538 ، )
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہار شریعت میں فرماتے ہیں : ’’عورتوں کے لیے بعض علماء نے زیارتِ قبور کو جائز بتایا ، در مختار میں یہی قول اختیار کیا ، مگر عزیزوں کی قبور پر جائیں گی ، تو جزع و فزع کریں گی ، لہٰذا ممنوع ہے اور صالحین کی قبور پر برکت کے لیے جائیں ، تو بوڑھیوں کے لیے حرج نہیں اور جوانوں کے لیے ممنوع اور اسلم یہ ہے کہ عورتیں مطلقاً منع کی جائیں کہ اپنوں کی قبور کی زیارت میں تو وہی جزع و فزع ہے اور صالحین کی قبور پر یا تعظیم میں حد سے گزر جائیں گی یا بے ادبی کریں گی کہ عورتوں میں یہ دونوں باتیں بکثرت پائی جاتی ہیں ۔ ‘‘( بھارِ شریعت ، حصہ 4 ، جلد 1 ، صفحہ 849 ، )